اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے جعلی لائسنس کے حامل 28 پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
انہوں نے انکشاف وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائلٹس کے معاملے پر رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ پائلٹس کے تمام تر مشکوک لائسنس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے دور حکومت میں جاری کیے گئے۔ پی آئی اے کے جعلی لائسنس والے 28 پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اجلاس میں منی لانڈرنگ کے قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترمیم کی ہے۔ اس سے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، اس لیے اس کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کو شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر صنعت وپیداوار نے کابینہ کو بتایا کہ شوگر اصلاحات کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جس سے چینی کی پوری سپلائی چین کو واضح کر دیا گیا ہے اور عوام کو سستی چینی کی فراہمی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے احساس پروگرام کا دوسرا حصہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں میں 150 ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔
United States Latest News, United States Headlines
Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.
‘جعلی لائسنس والے پی آئی اے کے 28 پائلٹس کو فارغ کردیا گیا’اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے جعلی لائسنس کے حامل 28 پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
Read more »
مسافروں کے لیے خوشخبری، پی آئی اے نے کرایوں میں مزید کمی کا اعلان کر دیامسافروں کے لیے خوشخبری، پی آئی اے نے کرایوں میں مزید کمی کا اعلان کر دیا تفصیل جانیے: ARYNewsUrdu
Read more »
پی آئی اے کے 34 پائلٹ معطل، خواتین بھی شاملکراچی : سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کپتانوں کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے قومی ایئرلائن کے 34 پائلٹوں کے لائسنس معطل کردئیے۔
Read more »
پی ٹی آئی رہنما عظمیٰ کاردار کا برخاستگی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہلاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ٹی آئی رہنما عظمیٰ کاردارنے برخاستگی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پی ٹی آئی رہنما عظمی کاردارنے کہاہے کہ فیصلے کے
Read more »